Tuesday, December 28, 2010

خلافت کیاہے؟

نظام خلافت وہ حکومتی نظام ہے جسے اللہ نے انسانوں کی بھلائی کے لئے نازل فرمایا۔ اس نظام کو عملاً زمین پر اللہ کے رسول ﷺ نے نافذ کر کے دکھایا۔ اور اسی نظام کے تحت خلفاء راشدین نے حکمرانی کی اور اسلام کی دعوت کو بذریعہ جہاد پوری دنیا تک پھیلایا۔ خلافت مسلم امت کو وحدت بخشنے کا واحد طریقہ ہے۔ یہ خلافت ہی ہے جو مسلمانوں کے تمام وسائل کو ایک امیر تلے یکجا کرتی ہے اور مسلمانوں کو طاقت، ترقی اور شان و شوکت بخشتی ہے۔خلافت کا نظام نہ آمریت پر مبنی ہے اور نہ ہی یہ کوئی جمہوری نظام ہے۔ آمریت میں ایک شخص جبکہ جمہوریت میں پارلیمنٹ قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے۔اللہ نے یہ قانون سازی کی طاقت انسان سے لے کر اپنے لئے مخصوص کر لی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
)اِنِ الْحُکْمُ ِلاَّ لِلّہِ) 
"حکم کا اختیار تو بس اللہ ہی کا ہے"
(یوسف: 100)
خلافت میں خلیفہ محض اللہ کے نازل کردہ احکامات کو نافذ کرنے پر معمور ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی قانون سازی کا اختیار نہیں رکھتا۔ اسی طرح مجلس امت جو کہ عوام کا نمائندہ ادارہ ہوتی ہے محض مباح امور میں مشورہ دینے کا مجاز ہوتی ہے اور وہ کسی قسم کا قانون ساز ادارہ نہیں ہوتا۔
یوں خلافت ایک ممتاز اور منفرد نظام حکمرانی ہے جس کی آمریت یا جمہوریت سے کوئی مشابہت نہیں۔ گو کہ خلافت میں خلیفہ عوام منتخب کرتے ہیں لیکن یہ قدر مشترک ہونے کی بنیاد پر خلافت کو جمہوری نظام نہیں کہا جاسکتا کیونکہ جو قدر جمہوریت کو ممتاز کرتی ہے وہ عوام کا قانون ساز ہونا ہے۔ یہ قدر خلافت میں موجود نہیں اسی لئے خلافت کو جمہوریت نہیں کہا جا سکتا۔ خلافت تمام مسلمانوں کی ریاست کا نام ہے جس کا لیڈر تمام مسلمانوں کا خلیفہ ہوتا ہے۔ یہ مسلمانوں کی مرکزیت کا ضامن اور ان کی حفاظت کے لئے ڈھال کا کردار ادا کرتا ہے۔
یہ خلافت کا نظام ہی ہوتا ہے جو اسلام کے دیگر نظاموں کو کماحقہ نافذ کرتا ہے۔ یہ خلافت ہی تھی جس نے تقریباً تیرہ سو سال تک اسلام کا عدالتی نظام، معاشی نظام، معاشرتی نظام، خارجہ پالیسی اور تعلیمی پالیسی نافذ کئے رکھیں۔ آج خلافت کے سائے تلے اللہ کے نازل کردہ یہ نظام ہی انسانیت کو سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم و جبر سے نکال سکتے ہیں۔

خلافت میں نافذ ہونے والے نظام کی ایک جھلک 
آج اسلام کے نفاذ کا مطلب چور کے ہاتھ کاٹنا، زانی کو سنگسار کرنا، معیشت کو سود سے پاک کرنا، مردوں کو داڑھی رکھوانا اور عورت کو حجاب پہنانے تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ کیا صرف یہی اسلام ہے؟
آخر کیا وجہ ہے کہ اسلام کے نفاذ کا ذکر آنے پر ایک خوشحال، ترقی یافتہ اور جدید ریاست کا خاکہ ذہنوں میں نہیں ابھرتا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ماضی میں خلافت نے غربت پر اس طرح قابو پایا کہ زکوٰة دینے والے تو موجود تھے لیکن زکوٰة لینے والے ڈھونڈے نہیں ملتے تھے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمیں اس حقیقت کا علم نہیں کہ خلافت کے سائے میں مسلمان لگ بھگ 1100 سال تک دنیا کی طاقتور ترین اور صفِ اول کی قوم تھے۔امریکہ ہمیں خراج دیتا اور فرانس اپنے بادشاہ آزاد کروانے کے لئے خلیفہ وقت کی مدد مانگتا۔
یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت نئی نسل کی نظروں سے اوجھل رکھا گیا تاکہ مسلمان دوبارہ خلافت کے قیام کے ذریعے اس دنیا کے راہنما نہ بن جائیں۔ آئیے ایک نظر اس نظام پر ڈالتے ہیں جس کے نفاذ کے ذریعے خلافت ایک بار پھر نہ صرف مسلمانوں کو خوشحالی دیگی بلکہ دنیا کی طاقتور ترین ریاست بن کر ابھرے گی۔

اقتصادی نظام 
اسلامی اقتصادی نظام محض سود کو حرام قرار دینے اور زکوٰة وصول کرنے کا ہی نظام نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے معیشت کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی احکامات صادر فرمائے ہیں۔
-1         اسلامی معیشت اپنی اساس اور فروع میں سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام دونوں سے مختلف اور جدا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام آزادی ملکیت جبکہ اشتراکی نظام ذاتی ملکیت کی نفی کی بنیاد پر مبنی ہے۔ اسلام دونوں انتہائوں کو مسترد کرتا ہے۔ اسلام ذاتی ملکیت کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ چیزوں کو ذاتی ملکیت سے مستثنیٰ بھی قرار دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((المسلمون شرکاء فی ثلاث فی الماء والکلا و النار و ثمنہ حرام))
''مسلمان تین چیزوں میں برابر کے شریک ہیں: پانی،چراگاہیں اور آگ (تونائی کے وسائل)، اور ان کی قیمت لینا حرام ہے'' (ابن ماجہ)۔
اس حدیث کی رو سے ایک سرمایہ دار یا ملٹی نیشنل کمپنی کو عوامی اثاثہ جات پر ملکیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
چنانچہ تیل اور گیس کے کنوئیں، معدنیات کی کانیں، نہریں، شاہراہیں، پبلک پارکس وغیرہ ذاتی ملکیت میں نہیں آسکتے۔
-2        سرمایہ دارانہ نظام میں پیسہ کے ارتکاز کی بنیادی وجہ آزادیٔ ملکیت کی سوچ ہے۔ تمام تر وسائل نجکاری کے ذریعے چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں مرکوز ہو کر رہ جاتے ہیں اور عوام ان کو حاصل کرنے کے لیے منہ مانگا منافع دینے پر مجبور ہوتے ہیں جیسا کہ پاکستان میں آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے قیام کے بعد بجلی کا حشر ہوا۔ یا تیل اور گیس کو ڈی ریگولیٹ کر کے انتظام ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کر دیا گیا اور اب ہرماہ پٹرول بم عوام کے سر پر گرایا جاتا ہے۔
چونکہ اسلام کی رو سے عوامی اثاثہ جات کے شرعی مالک عوام ہیں ریاست نہیں چنانچہ ریاست ان اشیاء کی ترسیل میں ظالمانہ منافع نہیں کما سکتی۔ توانائی کے وسائل سستے داموں ملنے کے بدولت عوام کو فوری ریلیف ملے گا اور زراعت اور انڈسٹری کو نئی زندگی ملے گی۔
چنانچہ اسلام کا ایک حکم مغربی سرمایہ دارانہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو عوام الناس کی بنیادی ضروریات پر ڈاکہ ڈالنے سے روک دیتا اور پیسے کو چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
-3        شہری علاقے سے باہر ایک بنجر زمین کو زندہ کرنے والا اس کا مالک بھی بن جاتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 45 فیصد اراضی بنجر پڑی ہے جسے کچھ محنت کے بعد قابل کاشت بنایا جا سکتا ہے۔ مالکانہ حقوق کی پرکشش ترغیب گائوں میں رہنے والی 70% آبادی کو نہ صرف باعزت روزگار حاصل کرنے کے لیے متحرک کریگی بلکہ ملکی پیداوار میں خاطر خواہ اضافے کا باعث بھی بنے گی۔ نیز اس اراضی سے خراج اور عشر کی مد میں خطیر رقم بیت المال میں جمع ہوگی۔
-4        خلافت میں مزارعت یا کاشت کے لیے زمین کرائے پر دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
امام مسلم نے آپ ﷺ سے روایت کیا: ''رسول اللہ ﷺ نے (زرعی) زمین کا کرایہ لینے یا اس (کی پیداوار) کا حصہ لینے سے منع فرمایا۔''
-5        اگر ایک زمیندار تین سال تک ایک خطۂ اراضی کاشت نہ کرے تو ریاست اس زمین کو ضبط کر کے کسی دوسرے شہری کو دینے کی مجاز ہوگی ہے۔ اس کی دلیل حضرت عمر کی خلافت کے دوران اجماع الصحابہ ہے۔
-6        اسلام میں کچھ متعین ٹیکس اور صدقات ہیں مثلاً خراج، عشر، جزیہ، زکوٰة، خمس، ہنگامی حالات میں صرف امیروں پر ٹیکس وغیرہ۔ ان متعین ٹیکسوں اور صدقات کے علاوہ عوام پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس لگانا شرعاً حرام ہے۔
خلافت میں جی ایس ٹی، انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، ٹول ٹیکس حرام ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان استحصالی ٹیکسوں کی عدم موجودگی میں ایک عام شہری کو فوری ریلیف ملتا ہے۔
-7        اسلام میں سود کی قطعی حرمت وارد ہوئی ہے اور اسے کسی مجبوری یا ضروت کی بنا پر حلال قرار نہیں دیا جاسکتا۔
-8        سٹاکس ایکسچینج جیسے سٹہ باز اور استحصالی ادارے کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں۔
-9        مسلمان اور غیر مسلم تاجر پر کسی قسم کی امپورٹ اور ایکسپورٹ ڈیوٹی عائد نہیں کی جاتی۔
-10      خلافت میں کرنسی مکمل طور پر سونے اور چاندی پر منحصر ہوگی۔
-11       غریب شہری کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ ان ضروریات میں خوراک، لباس، چھت، تعلیم، صحت وغیرہ شامل ہیں۔
-12      اسلام ریاست کو اشیاء کی قیمتیں متعین کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کے اصول اشیاء کی قیمتیں متعین کرتے ہیں

اسلام کا حکومتی نظام 
قرآن پاک میں ارشادباری تعالیٰ ہے۔
(اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ) 
''حکم کا اختیار تو بس اللہ ہی کا ہے''
(یوسف: 100)
-1         اسلامی نظام حکومت میں اللہ کے سوا قانون سازی کا اختیار کسی کے پاس نہیں،
خلیفہ محض اسلام کو نافذ کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
چنانچہ خلافت میں اقتدار اعلیٰ صرف اللہ کی شریعت کو حاصل ہے۔
اس طرح استعمار کے اپنے مفادات کے لئے قانون سازی کے دروازے بند کردئے گئے ہیں۔
محض یہ ایک حکم عوام کو استعمار کی سیاسی غلامی سے نکالتا ہے۔
یوں کوئی بھی سترھویں ترمیم کے ذریعے امریکہ کی رسد کو قانونی تحفظ فراہم نہیں کرسکتا۔
یا امریکہ کو دی جانے والی انٹیلی جنس شئیرنگ اور مدد جیسے حرام کو حلال نہیں بنا سکتا۔
-2        خلیفہ کے انتخاب کاحق عوام کے پاس ہے۔ اس سلسلے میں مجلس امت جو کہ عوام کا نمائندہ ادارہ ہے خلیفہ کے انتقال یا معزول کئے جانے کی صورت میں خلیفہ کا انتخاب کرتی ہے۔
-3        خلیفہ مطلق العنان نہیں ہوتا بلکہ اس کا محاسبہ کرنا عوام کا انفرادی اور اجتماعی فریضہ ہوتاہے۔
خلافت میں خلیفہ کا محاسبہ پانچ ذرائع سے کیا جاسکتا ہے
انفرادی طور پر،سیاسی پارٹیوں کے ذریعے، میڈیا کے ذریعے، مجلس امت کے ذریعے اور قاضی مظالم کے ذریعے۔
-4        اگر خلیفہ قطعی کفر نافذ کر رہا ہو اور محاسبے کے یہ پانچوں طریقے ناکام ہو جائیں۔ تو امت پر لازم ہے کہ وہ خلیفہ کے خلاف "خروج" (عسکری جدوجہد) کرے۔
یہ محاسبے کا وہ سخت ترین طریقہ ہے کہ جس کے ڈر سے اسلامی تاریخ میں تمام خلفاء اسلام کے علاوہ کچھ بھی نافذ نہ کر سکے۔
گو کہ انفرادی طور پر ان میں سے کچھ میں خامیاں تھیں لیکن نظام کے نفاذ میں کسی کو بھی کفر نافذ کرنے کی جرأت نہ ہو سکی۔
-5        قاضی مظالم کواختیار حاصل ہے کہ وہ بدعنوانی کی صورت میں خلیفہ کو معزول کر دے۔
-6        مجلس امت عوام کے نمائندوں پر مشتمل ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جس کی ذمہ داریوں میں خلیفہ کو مشورہ دینے کے ساتھ ساتھ اس کا محاسبہ کرنا بھی شامل ہے۔
-7        اسلامی نظام حکومت میں ایک سے زائد سیاسی جماعتیں قائم کرنے کی اجازت ہوگی۔ لیکن تمام سیاسی جماعتوں کی اساس اسلام پر ہونا لازم ہے۔
-8        پوری مسلم امت کی ایک ہی ریاست اور ایک ہی خلیفہ ہوتاہے۔ ایک سے زائد ریاست بنانا یا ایک خلیفہ کی موجودگی میں کوئی دوسرا خلیفہ مقرر کرنا شرعاً حرام ہے۔ یہی مسلمانوں کی وحدت اور طاقت کی ضمانت ہے۔

اسلامی نظام عدل 
-1         خلافت میں تمام مقدمات کا فیصلہ صرف اور صرف اﷲ کے قوانین کے تحت کیا جاتا ہے۔
آج پاکستان میں انگریز کے کفریہ قوانین کے تحت فیصلے کئے جا رہے ہیں جو انصاف مہیا کرنے سے قاصر ہیں۔
-2        جج کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے اسے کسی اور عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔
اس وجہ سے حقدار کو ایک عدالت سے دوسری عدالت تک چکر نہیں لگانے پڑتے اور مجرم کو فوری سزا ملتی ہے۔
صرف ایک صورت میں فریقین قاضی کے خلاف مقدمہ کر سکتے ہیں اگر قاضی نے فیصلہ کرتے ہوئے اسلامی احکامات کی صریح خلاف ورزی کی ہو یا قطعی حقائق کو نظر اندازکیا ہو۔
-3        اسلامی نظام عدل میں محض شک کی بنیاد پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔
ملزم اس وقت تک بری تصور کیا جاتا ہے جب تک کہ اس کا جرم شرعی بیّنات (ثبوت) کی روشنی میں ثابت نہ ہوجائے۔
آج جھوٹی FIR کی مدد سے ایک غریب کو جیل بھجوا دیا جاتا ہے جہاں وہ ضمانت کی عدم موجودگی کی وجہ سے سالہا سال سڑتا رہتا ہے۔
اس قسم کا ظلم خلافت میں ممکن نہیں۔
-5        آج خواتین حدود اللہ کی وجہ سے ظلم کا شکار نہیں بلکہ انگریز کے دئیے گئے procedural laws کے تحت ظلم کی چکی میں پس رہی ہیں کیونکہ انہیں محض FIR کے کٹنے پر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔
-6        اسلامی عدالتی نظام میں اعلیٰ اور ذیلی عدالتوں کا کوئی تصور نہیں تاہم مختلف نوعیت کے جرائم کی بنیاد پر عدالتوں کی تین اقسام ہیں۔
 قاضی محتسب، قاضی عام اور قاضی مظالم۔
-7        عدالت میں صرف ایک ہی قاضی فیصلے کا مجاز و مختار ہوتا ہے گو کہ دیگر قاضی حضرات اسے فیصلہ کرنے میں مشورہ اور مدد دے سکتے ہیں۔ اسلام میں جیوری کا کوئی تصور نہیں۔
-8        جھوٹی گواہی دینے والے کو قرار واقعی سزا دی جاتی ہے۔اور لمبے اور غیر ضروری پروسیجرل قوانین (procedural laws) سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً عوام کو فوری اور سستا انصاف مہیا ہوتا ہے۔
-9        خلافت میں عدل مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے اس لئے کسی قسم کی کوئی کورٹ فیس یا ٹیکس نہیں لیاجاسکتا۔
-10      عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تمام شہریوں کو رنگ، نسل اور دین سے بالا تر ہو کر ایک ہی نظر سے دیکھے۔ سوائے ان مسائل کے جو غیر مسلموں کی ذاتی زندگی سے متعلق ہوں مثلاً شادی بیاہ وغیرہ جن میں ہر شخص کے مذہب کے مطابق فیصلے کئے جائیں گے۔

خارجہ پالیسی 
-1         اسلام کی دعوت اور اس کے نظاموں کا فروغ خارجہ پالیسی کی بنیاد اور اساس ہوتا ہے۔ جس کا عملی طریقہ دعوت اور جہاد ہوگا تاکہ انسانیت کو استعماری نظام کے ظلم سے نجات دلائی جاسکے۔
-2        ریاست کو کسی بھی ایسے بین الاقوامی ادارے کا حصہ بننے کی اجازت نہیں ہوگی جس میں غلبہ اور مجموعی اختیار کفار کے پاس ہو مثلاً اقوام متحدہ، نیٹو، WTO وغیرہ۔
-3        مسلم علاقوں میں قائم غیر شرعی ریاستوں کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان علاقوں کو خلافت میں ضم کرنے کے لیے تمام ذرائع استعمال کریگی۔
-4        وہ ممالک جو مسلمانوں کے خلاف عملاً بر سرپیکار ہیں مثلاً اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، ہندوستان وغیرہ ان ممالک کے ساتھ حالت جنگ کے شرعی قوانین لاگو ہوں گے۔ ان ممالک کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات نہیں ہونگے۔
-5        دیگر غیر مسلم ریاستوں سے محدود مدت کے معاہدے کر کے سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں گے تاکہ ان کے ساتھ مل کر بڑے سیاسی حریف کے خلاف سیاسی اور اقتصادی بلاک بنایا جاسکے۔
-6        خلافت عالمی سطح پر ایک فعال ریاست کا کردار ادا کریگی اور افریقہ، لاطینی امریکہ اور دیگر علاقوں میں پسے ہوئے عوام کی قیادت حاصل کرنے کے لئے عملی اقدامات کریگی۔
-7        خلافت مسلمانوں کے وسائل اور فوجوں کو متحد کرتے ہوئے کشمیر، فلسطین، عراق، افغانستان اور دیگر مسلم مقبوضہ علاقوں کو بذریعہ جہاد حریت دلائے گی۔

معاشرتی نظام 
اسلام میں عفت و عصمت کی حفاظت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ مرد اور عورت پر تہمت لگانے والے کو سخت سزا دی جائے گی۔
نیز تمام تمدنی پہلوئوں یعنی لباس کی تراش خراش، عمارتوں کی تعمیر وغیرہ میں اسی بنیاد کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ مسلمان اور غیر مسلم عورتیں چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ جسم کا کوئی حصہ برہنہ کر کے باہر نہیں آسکیں گی۔ اسی طرح مردوں کو بھی اپنے ستر ڈھانپ کر نکلنا ہو گا۔ نان و نفقہ کی ذمہ داری مرد کی ہے۔ بچوں اور گھر کی دیکھ بھال عورت کی اولین ذمہ داری ہے۔ عورت کے بھی وہی حقوق اور فرائض ہیں جو مرد کے ہیں سوائے ان کے جو اسلام نے بحیثیت عورت اس کے ساتھ مخصوص کر دئے ہیں۔
چنانچہ عورت تجارت، زراعت، تدریس، طب، صنعت و حرفت، سیاست وغیرہ میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکتی ہے بشرطیکہ اس کی اولین ذمہ داری متاثر نہ ہو۔عورت تمام حکومتی عہدوں پر فائز ہوسکتی ہے سوائے خلیفہ، معاون تفویض، محکمة المظالم کے قاضی، والی (گورنر) اور عامل کے۔
عورتوں اور مردوں کی جنسیت کو پیسے کمانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ چنانچہ وہ تمام پیشے اختیار کرنے کی اجازت نہ ہوگی جو عورت اور مرد کی جنسیت کو استعمال کرتے ہیں جیسا کہ آج کل ماڈلنگ، ائیر ہوسٹس وغیرہ کا معاملہ ہے۔

اسلامی تعلیمی پالیسی 
-1         تعلیم کا بنیادی مقصد اسلامی شخصیت پیدا کرنا اور طالب علم کو زندگی کے مسائل سے متعلق علوم اور معارف سے لیس کرنا ہے۔
-2        پرائمری اور سکینڈری اسکول تک تعلیم مفت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔
-3        ہر مرد اور عورت پر یہ فرض ہے کہ وہ روز مرہ زندگی سے متعلق شرعی احکامات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو۔
-4        پوری ریاست میں تعلیمی نصاب ایک ہی ہوگا اور پرائیوٹ تعلیمی اداروں یا مدارس کو ریاست کے نصاب کے علاوہ کسی دوسرے نصاب کو اپنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
-5        اسی طرح کسی بھی غیر ملکی ادارے کو اسلامی ریاست میں اسکول کھولنے کی اجازت نہ ہوگی۔
-6        مخلوط تعلیم کی اجازت نہیں ہوگی۔ لیکن اگر ریاست کے پاس فنڈزنہ ہوں اوراعلیٰ تعلیمی شعبے میں الگ الگ جامعات بنانا ناممکن ہو جائے تواس صورت میں اس کی محدود اجازت دی جاسکتی ہے۔
-7        سائنس اور ٹیکنالوجی اور ان کے ثمرات غیر مسلموں سے بھی اخذ کئے جاسکتے ہیں مثلاً اسلحہ، خلائی ٹیکنالوجی، ٹی وی، ڈی وی ڈی، انٹرنیٹ، پودوں اور جانوروں کی کلوننگ وغیرہ۔
-8        وہ مضامین جو مغربی ثقافت اور ان کے نظریات مثلاً ڈارون ازم وغیرہ کو فروغ دیں، ان کی پرائمری اور سیکنڈری درجات میں تدریس کی اجازت نہ ہوگی۔ تاہم یہ موضوعات مع ان کے ردّ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھائے جائیں گے۔
-9        اسلام میں علم کے چھپانے کی اجازت نہیں ہے۔ چنانچہ کاپی رائیٹ اور انٹیلیکچویل پراپرٹی رائٹس کے سرمایہ دارانہ قوانین کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی جن کا مقصد ہوشربا منافع بنانے کے علاوہ دیگر اقوام کو سائنسی میدان میں پسماندہ رکھنا ہوتا ہے۔
-10      دفاعی اور بھاری صنعت کی ترقی کو ترجیحی بنیادوں پر استوار کیا جائے گا نیز یہاں پر ہونے والی تحقیق کو دیگر انڈسٹری کے ساتھ باہم مربوط کیا جائے گا تاکہ تحقیق کے فوائد عام آدمی تک پہنچ سکیں۔

متفرق اصول و قوانین 
-1         ریاست میں فقہی اختلاف کی مکمل اجازت ہوگی سوائے قطعی احکام اور عقائد کے، کیونکہ ان میں اختلاف سے ایک شخص اسلام سے خارج ہوجاتا ہے جیسا کہ قادیانیوں کا معاملہ ہے۔ چنانچہ تمام مسالک مثلاً حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، جعفری اور زیدی وغیرہ کے پیروکاروں کو اپنے اپنے مسلک کے مطابق ذاتی امور، نکاح عبادات وغیرہ ادا کرنے کی پوری اجازت ہوگی۔
-2        کسی اختلافی مسئلے میں ریاست کسی مخصوص رائے کو صرف اسی وقت اختیار (تبنی) کرتی ہے اگر اس مسئلے کا تعلق معاشرے کے اجتماعی پہلوؤں سے ہو یا اس کا تعلق نظام سے ہو۔ عموماً انفرادی پہلوؤں اور عبادات سے متعلق احکامات پر ریاست کوئی خاص فقہی رائے نافذ نہیں کرتی۔
-3        نظام سے متعلقہ اسلامی احکامات ریاست قوت دلیل کی بنیاد پر اختیار (تبنی) کرتی ہے جو ریاست کے تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ خلافت کسی خاص مسلک کی ریاست نہ ہوگی بلکہ یہ تمام مسالک کی خلافت ہو گی۔
-4        مزید برآں عوام کے پاس ریاست کے نافذ کردہ احکامات کی شرعی حیثیت کو چیلنج کرنے کا اختیار ہوتا ہے جس پر قاضی مظالم کا فیصلہ حتمی ہو گا۔
-5        ریاست ذرائع ابلاغ کو اسلام کی تشہیر و تعلیم اور امت کی سیاسی بیداری اور یکجہتی کے لیے استعمال کریگی۔ نیز پرائیویٹ اور ریاستی ذرائع ابلاغ کو حکمرانوں کے محاسبے کی کھلی اجازت ہوگی۔
-6        ایک ذمی (غیر مسلم شہری) کی جان، مال، عزت کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ انہیں جیسا چاہیں اعتقاد رکھنے اور اپنے مذہبی رسوم کے مطابق عبادت کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
قرآن و حدیث سے اخذ کردہ یہ نظام ان تمام لوگوں کے لئے چیلنج ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کو قائم رکھنے کے لئے اس جھوٹ پر مصِر ہیں کہ اسلام کوئی متعین نظام نہیں دیتا یا اسلام کوئی دین نہیں بلکہ محض عقائد، روحانی نظریات، اخلاقیات اور عبادات کا مجموعہ ہے۔
یہ اسلام پر 21 ویں صدی کی سب سے بڑی تہمت ہے جبکہ اللہ تعالیٰ خود ارشاد فرماتا ہے:
(وَنَزَّلْنَا عَلَیْْکَ الْکِتَابَ تِبْیَاناً لِّکُلِّ شَیْْء) 
''ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے''
(النحل:89)
(الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الِسْلاَمَ دِیْناً ) 
''آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند فرمایا ''
(المائدة:3)

یہی وجہ ہے کہ امریکہ اسلامی نظام کے نفاذ کی دعوت دینے والوں کو انتہا پسند کہہ کر مسلمان معاشروں سے الگ کر دینا چاہتا ہے۔ اسی لئے political Islam کی اصطلاح گھڑ کر اسے گالی بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس میں مسلمانوں میں موجود غدار حکمران اور فکری غلام ان کی بھر پور مدد و معاونت کر رہے ہیں۔

No comments:

Post a Comment